Sunday, 6 September 2020

یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں

فلمی گیت

یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں 
اٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا
کیوں آگ سی لگا کے گم سم ہے چاندنی 
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارا

اٹھلاتی ہوا نیلم کا گگن 
کلیوں پہ یہ بے ہوشی کی نمی
ایسے میں بھی کیوں بے چین ہے دل 
جیون میں نہ جانے کیا ہے کمی
کیوں آگ سی لگا کے گم سم ہے چاندنی 
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارا
یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں 
اٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا

جو دن کے اجالے میں نہ ملا 
دل ڈھونڈے ایسے سپنے کو
اس رات کی جگ مگ میں ڈوبی 
میں ڈھونڈ رہی ہوں اپنے کو
یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں 
اٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا
کیوں آگ سی لگا کے گم سم ہے چاندنی 
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارا

ایسے میں کہیں کیا کوئی نہیں 
بھولے سے جو ہم کو یاد کرے
ایک ہلکی سی مسکان سے 
جو سپنوں کا جہاں آباد کرے
یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں 
اٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا
کیوں آگ سی لگا کے گم سم ہے چاندنی 
سونے بھی نہیں دیتا موسم کا یہ اشارا
یہ رات بھیگی بھیگی یہ مست فضائیں 
اٹھا دھیرے دھیرے وہ چاند پیارا پیارا

شیلندر
(شنکر داس کیسری لال)

No comments:

Post a Comment