Sunday, 6 September 2020

آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیا

آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیا
میں بت پرستیوں سے مسلمان ہو گیا
کیوں صرفۂ نگاہ مِری جان ہو گیا
اک تیراور میں تیرے قربان ہو گیا
کیا جانے چپ ہوں کیوں تِری صورت کو دیکھ کر
آئینہ میں نہیں ہوں، کہ حیران ہو گیا
قاتل نہ روک ہاتھ کہ رکتی ہے میری جان
خنجر تو اور دم کا نگہبان ہو گیا
مۓ تو حلال ہے جو پنے ڈھب سے بادہ نوش
میں توبہ کر کے اور پشیمان ہو گیا
رِندانِ بے ریا کی ہے صحبت کسے نصیب
زاہد بھی ہم میں بیٹھ کے انسان ہو گیا
اس غنچے میں سمائی ہے وہ وحشت برنگِ بُو
دل کتنی تنگیوں پہ بیاباں ہو گیا
گر دل پھٹا ہے مجھ سے تِرا سہل ہے علاج
یا یہ بھی چاکِ جیب مِری جان ہو گیا
حسرت کسی طرف ہے تمنا کسی طرف
مجموعہ اپنے دل کا پریشان ہو گیا
حاصل ہوۓ مزے تِرے خنجر کے غیر کو
سر پر ہماری مفت کا احسان ہو گیا
کیا حال دل کہیں کہ دمِ عرضِ مدعا
تیرا عتاب حلق کا دربان ہو گیا
امید ہے کہ بہرِ عیادت وہ آئیں گے
آزار میری جان کو ارمان ہو گیا
لو اے بتو! سنو کہ وہ داغِ صنم پرست
مسجد میں جا کے آج مسلمان ہو گیا

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment