پری جمال بھی انساں ضرور ہوتا ہے
پھر اس پر آنکھ ہو اچھی تو حور ہوتا ہے
قصور وار ہوں مجھ سے قصور ہوتا ہے
مگر جب ہی کہ یہ دل، ناصبور ہوتا ہے
ہزاروں آتے ہیں کعبے سے پھر کے زاہد کیوں
ہمیشہ عذر بھی کرتے ہوۓ نہیں بنتی
وہاں سوال یہ ہے کہ کیوں قصور ہوتا ہے
وہ میرے واسطے کرتے ہیں جب ستم ایجاد
ستم شریک زمانہ ضرور ہوتا ہے
پڑی ہے جاں عجب کشمکش میں کیا کیجئے
نہ دل سے عشق، نہ دل مجھ سے دور ہوتا ہے
پیامبر کوئی لاتا ہے کیا خوشی کی خبر
کہ خود بخود مِرے دل کو سرور ہوتا ہے
دکھا دو جلوہ کہ دل پر جو ہے یہ غم کا پہاڑ
ذرا سی دیر میں جل بھن کے طور ہوتا ہے
جو مے پیوں تو گناہگار، کیا کروں واعظ
مجھے تو نام لیے سے سرور ہوتا ہے
یہ عاشقی میں نئی بات ہے کہ اے ظالم
تِرا قصور بھی میرا قصور ہوتا ہے
ہزار رنگ میں ہے اور پھر نظر میں نہیں
اسی کا پردہ، اسی کا ظہور ہوتا ہے
بٹھا دیا ہے محبت نے آپ کی سِکہ
یہ دل سے داغ کے اب کوئی دور ہوتا ہے
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment