مانا کہ لطف عشق میں ہے، ہم مگر کہاں
کچھ سُوجھتا نہیں کہ پڑی ہے نظر کہاں
واعظ مِری شراب کے چسکے ہی اور ہیں
توبہ، مئے طہُور میں ایسا اثر کہاں
بھرتا ہزار غنچۂ پیکاں کو چھوڑ کر
اتنا مگر یہ دامنِ زخمِ جگر کہاں
تھم تھم کے وار کر کہ مِرا درد مِٹ نہ جائے
جب میں نہیں تو لذتِ زخمِ جگر کہاں
بھُولا ہوں راہ، فرطِ محبت میں دیکھیے
ہوتی ہے آج شامِ غریبی، سحر کہاں
اس زلف میں بھی اے دلِ مضطر نہ رہ سکا
خانہ خراب تیرے ٹھکانے کو گھر کہاں
آغازِ شوق میں نہیں انجام کی خبر
اس مبتداء کی دیکھیے نکلی خبر کہاں
میخانے کے قریب تھی مسجد بھلے کو داغ
ہر ایک پوچھتا ہے کہ حضرت اِدھر کہاں
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment