بے ربط خیالوں میں الجھ جائیں گے ہم اور
سلجھے گی تِری زلف تو پڑ جائیں گے خم اور
پیغامِ بہاراں سے پریشاں ہوئے ہم اور
زِنداں میں نسیم آئی تو گھٹنے لگا دم اور
وہ پُرسشِ غم بن گئی دل کے لیے غم اور
آتا ہے عقیدت سے، محبت میں نیا رنگ
سجدوں سے چمک اٹھتے ہیں وہ نقشِ قدم اور
آ جاؤ، کہ اس فرقِ نظر کو بھی مٹا دیں
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ تم اور ہو، ہم اور
ادراکِ جنوں بھی کوئی لغزِش ہے جنوں کی
دل جتنا سنبھلتا ہے، بہِکتے ہیں قدم اور
الله رے، احساسِ محبت کی نزاکت
جب ان کا خیال آیا تو گھبرا گئے ہم اور
قمر مرادآبادی
No comments:
Post a Comment