ہم نے الفت کا بھرم سب سے جدا رکھا ہے
گویا سینے میں تجھے دل کی جگہ بسا رکھا ہے
دل یہ چاہے کہ تُو کبھی بدنام نہ ہو
دیکھ ذکر تیرا ہے مگر نام چھپا رکھا ہے
میرے جس ہاتھ سے کیا تھا تُو نے مصافحہ
اب میں سمجھا تیرے رخسار پہ تل کا مطلب
دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے
جدا ہو گئے ہیں تو پھر کیا ہوا ساقی
تیری تصویر کو سینے میں سجا رکھا ہے
قمر مرادآبادی
No comments:
Post a Comment