Sunday, 6 September 2020

ہم نے الفت کا بھرم سب سے جدا رکھا ہے

ہم نے الفت کا بھرم سب سے جدا رکھا ہے
گویا سینے میں تجھے دل کی جگہ بسا رکھا ہے
دل یہ چاہے کہ تُو کبھی بدنام نہ ہو
دیکھ ذکر تیرا ہے مگر نام چھپا رکھا ہے
میرے جس ہاتھ سے کیا تھا تُو نے مصافحہ
دھویا ہی نہیں ہونٹوں سے لگا رکھا ہے
اب میں سمجھا تیرے رخسار پہ تل کا مطلب
دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے
جدا ہو گئے ہیں تو پھر کیا ہوا ساقی
تیری تصویر کو سینے میں سجا رکھا ہے

قمر مرادآبادی

No comments:

Post a Comment