Saturday, 5 September 2020

جو نظر آتا نہیں دیوار میں در اور ہے

جو نظر آتا نہیں دیوار میں در اور ہے 
ان ستمگاروں کے پیچھے اک ستمگر اور ہے 
جو نظر آتا نہیں رستے کا پتھر اور ہے 
میں نہیں ہوں میرے اندر ایک خود سر اور ہے 
ان فضاؤں میں مگر میرا گزر ممکن نہیں 
میری منزل اور ہے میرا مقدر اور ہے 
ہم ہیں طوفان حوادث میں ہمیں معلوم ہے 
تم سمجھ سکتے نہیں ساحل کا منظر اور ہے 
بوجھ تیری بے وفائی کا اٹھا لیتا،۔ مگر 
اک تمنا تجھ سے بڑھ کر دل کے اندر اور ہے 
کچھ تعلق ہی نہیں جس کا مِرے حالات سے 
میرے محسن تیرا اک احسان مجھ پر اور ہے 
آپ سے مل کر مجھے محسوس یہ ہونے لگا 
یہ مِرا پیکر نہیں ہے میرا پیکر اور ہے 
میری بربادی کا باعث صرف ناداری نہیں 
ایک سامان اذیت اس سے بڑھ کر اور ہے 
روشنی پہلے بھی ہوتی تھی مگر سلطان رشک
آفتابِ صبحِ آزادی کا منظر اور ہے🌞 

سلطان رشک

No comments:

Post a Comment