دھوپ کی شدت میں ننگے پاؤں ننگے سر نکل
اے دلِ سادہ! سوادِ جبر سے باہر نکل
کل کا سورج شادکامی کی خبر دے یا نہ دے
چھوڑ اندیشے، حصارِ ذات سے باہر نکل
ساحلوں پر تیرے استقبال کو آیا ہے کون
عہدِ دار و گیر ہے اپنا تشخص گُم نہ کر
سوچ کی ساری فصیلیں توڑ کر باہر نکل
اپنے خد و خال دیکھوں میں اے سلطان رشک
میری آنکھوں سے مگر اے خواب کے منظر نکل
سلطان رشک
No comments:
Post a Comment