Saturday, 5 September 2020

دھوپ کی شدت میں ننگے پاؤں ننگے سر نکل

دھوپ کی شدت میں ننگے پاؤں ننگے سر نکل
اے دلِ سادہ! سوادِ جبر سے باہر نکل
کل کا سورج شادکامی کی خبر دے یا نہ دے
چھوڑ اندیشے، حصارِ ذات سے باہر نکل
ساحلوں پر تیرے استقبال کو آیا ہے کون
ڈوبنے والے ابھر پھر سطح دریا پر نکل
عہدِ دار و گیر ہے اپنا تشخص گُم نہ کر
سوچ کی ساری فصیلیں توڑ کر باہر نکل
اپنے خد و خال دیکھوں میں اے سلطان رشک
میری آنکھوں سے مگر اے خواب کے منظر نکل

سلطان رشک

No comments:

Post a Comment