بنا کے تلخ حقائق سے پر نکلتی ہے
چٹان میں بھی اگر ہو خبر نکلتی ہے
مِری طرف سے اجازت ہے دیکھ لو خود ہی
کہیں جدائی کی صورت اگر نکلتی ہے
وہ تیرگی ہے کہ خود راہ ڈھونڈنے کے لیے
چراغ ہاتھ میں لے کر سحر نکلتی ہے
غرور اتنا بھی کیا اپنی شان شوکت پر
یہ خوش گمانی تو کٹوا کے سر نکلتی ہے
راحت سرحدی
No comments:
Post a Comment