Saturday, 5 September 2020

بنا کے تلخ حقائق سے پر نکلتی ہے

بنا کے تلخ حقائق سے پر نکلتی ہے 

چٹان میں بھی اگر ہو خبر نکلتی ہے 

مِری طرف سے اجازت ہے دیکھ لو خود ہی 

کہیں جدائی کی صورت اگر نکلتی ہے 

وہ تیرگی ہے کہ خود راہ ڈھونڈنے کے لیے

چراغ ہاتھ میں لے کر سحر نکلتی ہے

غرور اتنا بھی کیا اپنی شان شوکت پر

یہ خوش گمانی تو کٹوا کے سر نکلتی ہے


راحت سرحدی 

No comments:

Post a Comment