▓ جا بیٹھے ندی کنارے، رات اور میں ▓
دونوں اک دوجے کے سہارے رات اور میں
اک جیسے حالات کے مارے ہیں سارے
رستے، پتے، چاند، ستارے رات اور میں
کچھ دیر سے گھر آنے والوں کے سائے
اور کوئی بے در بے چارے رات اور میں
▓چپ کی تاریکی کے سینے سے لگ کر
سو جائیں گے منظر سارے رات اور میں
▓ خاک اڑاتی خوابیدہ سڑکیں راحت
گلیاں، بے رونق چوبارے رات اور میں
راحت سرحدی
No comments:
Post a Comment