آسان ہر اک بات کو دشوار کرو تم
اقرار جہاں میں کروں، انکار کرو تم
جب بیچ بھنور زیست کی کشتی کبھی ڈوبے
ملاح بنو، اور مجھے پتوار کرو تم
دامن پہ محبت کا کوئی داغ لگا کر
زنجیرِ محبت یونہی پیروں میں سجا کر
وحشت کا تماشا مِری ہر بار کرو تم
ہر بات پہ ٹھہرا کے مجھے موردِ الزام
ایثار و وفا کو مِرے بے کار کرو تم
یہ زعمِ خودی ہے کہ تماشائے خودی ہے
سر بیچ کے ناموس کو دستار کرو تم
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment