Saturday, 5 September 2020

آسان ہر اک بات کو دشوار کرو تم

آسان ہر اک بات کو دشوار کرو تم
اقرار جہاں میں کروں، انکار کرو تم
جب بیچ بھنور زیست کی کشتی کبھی ڈوبے
ملاح بنو، اور مجھے پتوار کرو تم
دامن پہ محبت کا کوئی داغ لگا کر
پھر پیشِ زمانہ مجھے لاچار کرو تم
زنجیرِ محبت یونہی پیروں میں سجا کر
وحشت کا تماشا مِری ہر بار کرو تم
ہر بات پہ ٹھہرا کے مجھے موردِ الزام
ایثار و وفا کو مِرے بے کار کرو تم
یہ زعمِ خودی ہے کہ تماشائے خودی ہے
سر بیچ کے ناموس کو دستار کرو تم

رضیہ سبحان

No comments:

Post a Comment