اب لوگ مِرے ناز اٹھانے نہیں آتے
میں روٹھ بھی جاؤں تو منانے نہیں آتے
ہیں رنگ خوشی کے تو کبھی درد کے سائےۓ
چہرے کو مِرے راز چھپانے نہیں آتے
لغزش پہ یہاں خود ہی سنبھلنا بھی پڑے گا
اک خواب کی صورت انہیں محفوظ تو کر لو
جو لوٹ گئے پھر وہ زمانے نہیں آتے
کیا خاک سنواریں گے مقدر وہ کسی کا
جن ہاتھوں کو گلدان سجانے نہیں آتے
اپنوں سے امیدیں ہیں عبث تم کو اے رضیہ
جو آگ لگائیں وہ بجھانے نہیں آتے
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment