Saturday, 5 September 2020

غالب سے بے نیاز رہے میر ہو گئے

غالب سے بے نیاز رہے، میر ہو گئے
لمحات میں خوشی کے بھی دلگیر ہو گئے
نام و نسب پہ جن کو بہت ناز تھا کبھی
دیوار پر لگی ہوئی تصویر ہو گئے
کس درجہ کم نصیب رہے طائرِ چمن
آزادیوں میں حلقۂ زنجیر ہو گئے
جب ہار میں بدل گئی جیتی گئی بساط
کافر بھی پھر تو قائلِ تقدیر ہو گئے
جیسے ہی جی میں آئی کہ لکھوں کوئی غزل
سائے سنہری شام کے گھمبیر ہو گئے

رضیہ سبحان

No comments:

Post a Comment