Saturday, 19 September 2020

جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا

جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا

پھر کیسا حساب مانگتے ہو

سب ہونٹوں پہ مہر لگ چکی ہے

اب کس سے جواب مانگتے ہو

کلیوں کو مسل کے اپنے ہاتھوں

پھولوں سے شباب مانگتے ہو

ہر لفظ صلیب پر چڑھا کر

تم کیسی کتاب مانگتے ہو

سب روشنیوں کو چھین کر بھی

دیوانوں سے خواب مانگتے ہو

فردوس بریں میں مل سکے گی

اس ریگ ہیں شراب مانگتے ہو


پروین فنا سید

No comments:

Post a Comment