Thursday, 17 September 2020

ہر آشنا سے اس بن بیگانہ ہو رہا ہوں

 ہر آشنا سے اس بن بے گانہ ہو رہا ہوں

مجلس میں شمع رو کی پروانہ ہو رہا ہوں 

مجھ کو ملامت خلق خاطر میں ناہیں ہرگز 

زلفاں کی فکر میں میں دیوانہ ہو رہا ہوں 

ساقی شراب و ساغر اب چاہتا نہیں ہوں

اس کے خیال سوں میں مستانہ ہو رہا ہوں

اس کے خیال سوں میں تنہا نشیں ہوں دائم

وحشی سا میں سبن سوں بے گانہ ہو رہا ہوں

دیکھ اس کی لٹ کا پھاندا بھولا ہوں آب و دانہ

فائز! اسیر اس کا بے دانہ ہو رہا ہوں


فائز دہلوی

No comments:

Post a Comment