ہر آشنا سے اس بن بے گانہ ہو رہا ہوں
مجلس میں شمع رو کی پروانہ ہو رہا ہوں
مجھ کو ملامت خلق خاطر میں ناہیں ہرگز
زلفاں کی فکر میں میں دیوانہ ہو رہا ہوں
ساقی شراب و ساغر اب چاہتا نہیں ہوں
اس کے خیال سوں میں مستانہ ہو رہا ہوں
اس کے خیال سوں میں تنہا نشیں ہوں دائم
وحشی سا میں سبن سوں بے گانہ ہو رہا ہوں
دیکھ اس کی لٹ کا پھاندا بھولا ہوں آب و دانہ
فائز! اسیر اس کا بے دانہ ہو رہا ہوں
فائز دہلوی
No comments:
Post a Comment