ملتے ہیں اس ادا سے کہ گویا خفا نہیں
کیا آپ کی نگاہ سے میں آشنا نہیں
تسکینِ ہم نشیں سے بڑھا درد اور بھی
یعنی غمِ فراق کی کوئی دوا نہیں
شوقِ بقائے درد کی ہیں ساری خاطریں
کب تک کسی کے نازِ تغافل اٹھائے دل
کیا امتحانِ صبر کی کچھ انتہا نہیں
محرومیوں نے دل کا یہ کیا حال کر دیا
گویا امیدِ وصل سے ہم آشنا نہیں
ارماں مِرے وصال میں نکلیں تو کس طرح
جوشِ طرب سے دل میں کہیں راستا نہیں
آتا تو ہوں خیال میں ان کے کبھی کبھی
میں موردِ جفا ہوں تو یہ بھی برا نہیں
حسرت موہانی
غلط ٹائپنگ ہو گئی ہے
ReplyDelete* ورنہ دعا سی اور کوئی اور بددعا نہیں*
یہ ہے اصل مصرع
بحوالہ
درسی کتاب اردو
*مخزن ادب*
شکریہ محترم تصحیح کر دی گئی ہے
Delete