عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ
واقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپ
دل بھی کبھی ملا کے ملے ہیں کسی سے آپ
ملنے کو روز ملتے ہیں یوں تو سبھی سے آپ
سب کو جواب دے گی نظر حسب مدعا
مرنا مرا علاج تو بے شک ہے سوچ لوں
یہ دوستی سے کہتے ہیں یا دشمنی سے آپ
ہو گا جدا یہ ہاتھ نہ گردن سے وصل میں
ڈرتا ہوں اڑ نہ جائیں کہیں نازکی سے آپ
زاہد! خدا گواہ ہے، ہوتے فلک پر آج
لیتے خدا کا نام اگر عاشقی سے آپ
اب گھورنے سے فائدہ بزم رقیب میں
دل پر چھری تو پھیر چکے بے رخی سے آپ
دل تو نہیں کسی کا تجھے توڑتے ہیں ہم
پہلے چمن میں پوچھ لیں اتنا کلی سے آپ
میں بے وفا ہوں غیر نہایت وفا شعار
میرا سلام لیجے ملیں اب اسی سے آپ
بدلا یہ روپ آپ نے کیا بزم غیر میں
اب تک مری نگاہ میں ہیں اجنبی سے آپ
پردے میں دوستی کے ستم کس قدر ہوئے
میں کیا بتاؤں پوچھئے یہ اپنے جی سے آپ
اے شیخ! آدمی کے بھی درجے ہیں مختلف
انسان ہیں ضرور مگر واجبی سے آپ
مجھ سے صلاح لی نہ اجازت طلب ہوئی
بے وجہ روٹھ بیٹھے ہیں اپنی خوشی سے آپ
بیخود یہی تو عمر ہے عیش و نشاط کی
دل میں نہ اپنے توبہ کی ٹھانیں ابھی سے آپ
بیخود دہلوی
No comments:
Post a Comment