Tuesday, 15 September 2020

بظاہر یہ جو بیگانے بہت ہیں

بظاہر یہ جو بے گانے بہت ہیں
ہمارے جانے پہچانے بہت ہیں
خرد مندو مبارک عزم افلاک
زمیں پر چند دیوانے بہت ہیں
شبستانوں سے تم نکلو تو دیکھو
بھرے شہروں میں ویرانے بہت ہیں
تمہارا مے کدہ تم کو مبارک
ہمیں یادوں کے پیمانے بہت ہیں
گِلہ کیا غیر کی بے گانگی کا
کہ جو اپنے ہیں بیگانے بہت ہیں
نظام زیست کا محور محبت
حقیقت ایک افسانے بہت ہیں

پروین فنا سید

No comments:

Post a Comment