بظاہر یہ جو بے گانے بہت ہیں
ہمارے جانے پہچانے بہت ہیں
خرد مندو مبارک عزم افلاک
زمیں پر چند دیوانے بہت ہیں
شبستانوں سے تم نکلو تو دیکھو
تمہارا مے کدہ تم کو مبارک
ہمیں یادوں کے پیمانے بہت ہیں
گِلہ کیا غیر کی بے گانگی کا
کہ جو اپنے ہیں بیگانے بہت ہیں
نظام زیست کا محور محبت
حقیقت ایک افسانے بہت ہیں
پروین فنا سید
No comments:
Post a Comment