Tuesday, 15 September 2020

یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے

فلمی گیت

یہ زندگی کے میلے
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے

دنیا ہے موجِ دریا قطرے کی زندگی کیا
پانی میں مل کے پانی، انجام یہ کہ فانی
دم بھر کو سانس لے لے
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے
یہ زندگی کے میلے

ہوں گی یہیں بہاریں الفت کی یادگاریں
بگڑے گی اور بنے گی دنیا یہیں رہے گی
ہوں گے یہی جھمیلے
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے
یہ زندگی کے میلے

اک دن پڑے گا جانا، کیا وقت کیا زمانہ
کوئی نہ ساتھ دے گا، سب کچھ یہیں رہے گا
جائیں گے ہم اکیلے
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے
افسوس ہم نہ ہوں گے
یہ زندگی کے میلے
یہ زندگی کے میلے

شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment