عمارتوں کا جنگل اگ آیا ہے
میرے شہر میں
جس میں انسان پرندوں کی طرح مقیم ہیں
صبح اُڈاری مار کے نکل جاتے ہیں
شام کو تھکے ہارے پلٹ آتے ہیں
میں بھی ایک نرم و نازک سی شاخ پہ
پروں میں منہ چھپا کر پڑی رہتی ہوں
کہ یہ شاخ میری ماں کا آشیانہ تھی
اور اب میرا ٹھکانہ ہے
کہ عمارتوں کے اس جنگل میں
میرا کوئی گھر نہیں ہے
عذرا مغل
No comments:
Post a Comment