Wednesday, 6 January 2021

عمارتوں کا جنگل اگ آیا ہے میرے شہر میں

 عمارتوں کا جنگل اگ آیا ہے

میرے شہر میں

جس میں انسان پرندوں کی طرح مقیم ہیں

صبح اُڈاری مار کے نکل جاتے ہیں

شام کو تھکے ہارے پلٹ آتے ہیں

میں بھی ایک نرم و نازک سی شاخ پہ

پروں میں منہ چھپا کر پڑی رہتی ہوں

کہ یہ شاخ میری ماں کا آشیانہ تھی

اور اب میرا ٹھکانہ ہے

کہ عمارتوں کے اس جنگل میں

میرا کوئی گھر نہیں ہے


عذرا مغل

No comments:

Post a Comment