Friday, 5 March 2021

پرائی چھت پہ اتارے ہوئے پرندے ہیں

 پرائی چھت پہ اُتارے ہوئے پرندے ہیں

ہم اپنے بخت سے ہارے ہوئے پرندے ہیں

تم ان کے خاک میں بکھرے پروں پہ مت جانا

ہوا میں عمر گُزارے ہوئے پرندے ہیں

اُڑا کے کون اِنہیں ساحلوں پہ لے آیا

یہ کس کے ہجر کے مارے ہوئے پرندے ہیں

عجب نہیں کے پسِ آسماں بھی جا نکلیں

تمھارا نام پکارے ہوئے پرندے ہیں

ہمارا حال کوئی مختلف نہیں اِن سے

قفس میں عمر گُزارے ہوئے پرندے ہیں

سخن سے خاص تعلق ہے ان فرشتوں کا

غزل کا روپ جو دھارے ہوئے پرندے ہیں

شجر ہُوں قیس مِری شاخ پر ہے گھر ان کا

ہَوا ہے تو سو تمہارے ہوئے پرندے ہیں


ندیم قیس

No comments:

Post a Comment