ہر کسی کے نہیں وہ ہاتھ ہے آنے والا
کوئی خوش بخت ہی ہو گا اُسے پانے والا
اس کی ہر راہ کو کلیوں سے سجا رکھا ہے
"جانے کس راہ سے آ جائے وہ آنے والا"
منتظر صدیوں سے تھا دل یہ تیرے آنے کا
آج آیا بھی تو پل بھر میں ہے جانے والا
یاد ماضی ہے کہ مرنے بھی نہیں دیتی ہے
توٹ کر مجھ کو بھی چاہا تھا بھلانے والا
اشک پلکوں پہ لیے پھرتا ہے صحرا صحرا
گیت خوشیوں کا زمانے کو سنانے والا
کیوں نہ مشہور ہو میری بھی تباہی آخر
کوئی اپنا ہی ہے ہر وقت رُلانے والا
مل کے ہر شخص سے روتا ہے تو انظر کیونکر
تجھ کو کو نہیں سینے سے لگانے والا
انظر صبا
No comments:
Post a Comment