عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وہ اک بشر جو زمانے میں سب سے بہتر تھا
سراپا نور تھا،۔ انسانیت کا رہبر تھا
صفت بیان کروں کیا میں اس کی لفظوں میں
سمجھ لو کوزہ میں سمٹا ہوا سمندر تھا
بشر کی بندِ بصیرت کو اس نے کھول دیا
تو کُفر خود ہی فنا ہو گیا جو اندر تھا
گزاری عمر شہنشاہِ دو جہاںؐ نے یوں
نہ تخت تھا نہ کوئی تاج تھا نہ بستر تھا
کوئی مثال نہیں جس کے وصف کی حشمت
وہ شخص رحمتِ عالم کا ایک پیکر تھا
حشمت صدیق
No comments:
Post a Comment