Sunday, 21 March 2021

پگ پگ پھول کھلے تھے لیکن تن من میں تھی آگ

 پگ پگ پھول کھلے تھے لیکن تن من میں تھی آگ

وہ تو ساتھ نہیں تھا لیکن ساتھ تھے اس کے بھاگ

سوچ رہا ہوں کس کے وش سے ہو گی کم تکلیف

چاروں اور کھڑے ہیں میرے رنگ برنگے ناگ

دھیرے دھیرے من اگنی ٹھنڈی نہ کہیں ہو جائے

چھیڑ کبھی دل کی بینا پر کوئی پرانا راگ

میٹھے پانی کی ندی کیوں بہے سمندر اور

جس کے من میں پیار کا دھن ہو کیوں لے وہ بیراگ

آج یہاں کل وہاں یہی ہے باقرؔ اپنا حال

ہر مٹی دھتکارے جب سے چھوٹ گیا پریاگ


باقر نقوی

No comments:

Post a Comment