Saturday, 3 April 2021

دلنشیں تھی اٹھان موسم کی

 دلنشیں تھی اُٹھان موسم کی

لی ہواؤں نے جان موسم کی

پھول پر بھنبھناتی مکھیاں سب

بولتی ہیں زبان موسم کی

یوں تو ہر رنگ نیک ہے لیکن

تیری رنگت ہے جان موسم کی

بے سبب وہ گلے لگا رہا ہے

یہ ہے پہلی اُٹھان موسم کی

اُس نے کھایا نہیں ہے ایک بھی پھل 

کیسے اُترے تھکان موسم کی


توحید زیب

No comments:

Post a Comment