ہمارے حال کی جا کر انہیں خبر تو کریں
وہ کیوں نہ آئیں گے تدبیر چارہ گر تو کریں
کریں گے عرض بھی کچھ چَین لے ذرا اے دل
وہ انجمن میں ہماری طرف نظر تو کریں
بہت سے تشنۂ دیدار روز جا بیٹھیں
مگر کبھی وہ سر رہگزر گزر تو کریں
جلا دے شمع کی مانند تُو مجھے اے عشق
کہ اور لوگ ذرا تجھ سے الحذر تو کریں
ہم ان سے ذکر نہیں کرتے بزم اعداء کا
کہ ذکر وہ ہے یہ منظور ہو جو شر تو کریں
سورج نرائن
No comments:
Post a Comment