Friday, 2 April 2021

سائے کی خاموشی صرف زمین سہتی ہے

 سائے کی خاموشی

سائے کی خاموشی صرف زمین سہتی ہے

کھوکھلا پیڑ نہیں یا کھوکھلی ہنسی نہیں

اور پھر انجان اپنی انجانی ہنسی میں ہنسا

قہقہے کا پتھر اپنے سنگریزوں میں تقسیم ہو گیا

سائے کی خاموشی

اور پھول نہیں سہتے

تم

سمندر کو لہروں میں ترتیب مت دو

کہ تم خود اپنی ترتیب نہیں جانتے

تم

زمین پہ چلنا کیا جانو

کہ بُت کے دل میں تمہیں دھڑکنا نہیں آتا


سارا شگفتہ

سارہ شگفتہ

No comments:

Post a Comment