ہم ایسے اس لیے بھی داستاں والے نہیں ہوتے
ہمیں جو زخم ملتے ہیں نشاں والے نہیں ہوتے
فقط وہ دیکھنے اور سننے والوں میں سے ہوتے ہیں
تمہاری بزم میں اکثر زباں والے نہیں ہوتے
ہمارا رقص شاید اس لیے ہے دیکھنے والا
ہمارے رقص میں شامل جہاں والے نہیں ہوتے
کسی کا نام لے لے کر اٹھا لے جاؤ جو چاہو
جو اہلِ عشق ہوتے ہیں، دُکاں والے نہیں ہوتے
خدا ہی چھین لیتا ہے سنبھلنا ان کی قسمت سے
جو ٹھوکر کھا کے گر جائیں، وہ ماں والے نہیں ہوتے
ہمارے حال کی ان کو خبر یوں بھی نہیں ہوتی
وہاں جو لوگ ہوتے ہیں، یہاں والے نہیں ہوتے
ہمارے عشق کو شہزاد گمنامی پسند آئی
کہ سب کے عشق بھی تو رازداں والے نہیں ہوتے
شہزاد راؤ
No comments:
Post a Comment