Sunday, 4 April 2021

ہم ایسے اس لیے بھی داستاں والے نہیں ہوتے

 ہم ایسے اس لیے بھی داستاں والے نہیں ہوتے

ہمیں جو زخم ملتے ہیں نشاں والے نہیں ہوتے

فقط وہ دیکھنے اور سننے والوں میں سے ہوتے ہیں

تمہاری بزم میں اکثر زباں والے نہیں ہوتے

ہمارا رقص شاید اس لیے ہے دیکھنے والا

ہمارے رقص میں شامل جہاں والے نہیں ہوتے

کسی کا نام لے لے کر اٹھا لے جاؤ جو چاہو

جو اہلِ عشق ہوتے ہیں، دُکاں والے نہیں ہوتے

خدا ہی چھین لیتا ہے سنبھلنا ان کی قسمت سے

جو ٹھوکر کھا کے گر جائیں، وہ ماں والے نہیں ہوتے

ہمارے حال کی ان کو خبر یوں بھی نہیں ہوتی

وہاں جو لوگ ہوتے ہیں، یہاں والے نہیں ہوتے

ہمارے عشق کو شہزاد گمنامی پسند آئی

کہ سب کے عشق بھی تو رازداں والے نہیں ہوتے


شہزاد راؤ

No comments:

Post a Comment