Sunday, 4 April 2021

چاند کا قرض

 چاند کا قرض

ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں

ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی

اور اپنا اپنا بین ہوئے

ستاروں کی پُکار آسمان سے زیادہ زمین سُنتی ہے

میں نے موت کے بال کھولے

اور جُھوٹ پہ دراز ہوئی

نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی

شام دوغلے رنگ سہتی رہی

آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے

میں موت کے ہاتھوں میں ایک چراغ ہوں

جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں

زمینوں میں میرا انسان دفن ہے

سجدوں سے سر اُٹھا لو

موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے


سارا شگفتہ

سارہ شگفتہ

No comments:

Post a Comment