Monday, 5 April 2021

جو نفرتوں کا جمال ٹھہرا

 جو نفرتوں کا جمال ٹھہرا

محبتوں کا زوال ٹھہرا

نہ آنکھ روئی، نہ دل پسیجا

تمہارا جانا کمال ٹھہرا

تمہاری یادیں جہاں بھی ٹھہریں

وہیں پہ دل میں ملال ٹھہرا

جواب کیونکر دلیل کس کو

ہمارے لب پہ سوال ٹھہرا

جو ہم نے سوچا تھا عشق ہو گا

فقط ہمارا خیال ٹھہرا

وہ سُن کے چُپ ہیں کہانی چُپ کی

یہ ہمرا جاہ و جلال ٹھہرا

وہ ہم سے مل کر بھی مل نہ پائے

عجب ہمارا وصال ٹھہر

وہ خود کے جیسا ہی دوسرا ہے

وہ آپ اپنی مثال ٹھہرا


علی سرمد

No comments:

Post a Comment