تمہارے لمس کو خود میں اتار سکتا ہوں
میں اپنے آپ کو یوں بھی سنوار سکتا ہوں
وہ سانس سانس میں گھلنے لگا ہے یوں میرے
میں پور پور سے اس کو پکار سکتا ہوں
مِرے خیال کی طاقت سے تم نہیں واقف
زمین پر میں فلک بھی اتار سکتا ہوں
مِرے مزاج کی شدت سے تم تو واقف ہو
تمہیں میں اپنا بنا کر بھی ہار سکتا ہوں
اگر جو اذنِ محبت مجھے ملے صائم
میں روم روم تِرا بھی نکھار سکتا ہوں
صائم جی
No comments:
Post a Comment