راکھ کے ڈھیر میں بھلا کون اترنا چاہے
اسے حق ہے وہ اگر راستہ بدلنا چاہے
دلِ ناشاد کی آخری ہچکی بن کر
ایک فریاد میری سانسوں میں اٹکنا چاہے
مر گئیں تتلیاں اڑان سے پہلے
اب بلا سے وہ پنکھ دبوچنا چاہے
نیند رکھ کے آنکھوں کے کناروں پہ
وہ خوابوں کو پلکوں پہ کترنا چاہے
دل سے جو آہ اٹھی لبوں تک آتے آتے
ایک معجزہ میرے ہونٹوں پہ ابھرنا چاہے
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment