Monday, 5 April 2021

راکھ کے ڈھیر میں بھلا کون اترنا چاہے

 راکھ کے ڈھیر میں بھلا کون اترنا چاہے

اسے حق ہے وہ اگر راستہ بدلنا چاہے

دلِ ناشاد کی آخری ہچکی بن کر

ایک فریاد میری سانسوں میں اٹکنا چاہے

مر گئیں تتلیاں اڑان سے پہلے

اب بلا سے وہ پنکھ دبوچنا چاہے

نیند رکھ کے آنکھوں کے کناروں پہ

وہ خوابوں کو پلکوں پہ کترنا چاہے

دل سے جو آہ اٹھی لبوں تک آتے آتے

ایک معجزہ میرے ہونٹوں پہ ابھرنا چاہے


تاشفین فاروقی

No comments:

Post a Comment