Friday, 16 April 2021

آنکھوں کی ویرانی پر

 آنکھوں کی ویرانی پر

حیراں ہوں حیرانی پر

آنکھ سے آنسو بہتے ہیں

زور نہیں کچھ پانی پر

پتھر بھی رو دیتے ہیں

میری درد کہانی پر

دردِ جدائی لکھا ہے

ہر شب کی پیشانی پر

پھول کنول کے کھلتے ہیں

ٹھہرے ٹھہرے پانی پر

جگنو اس نے ٹانک دئیے

میرے آنچل دھانی پر

کیسا جادو کر ڈالا

تُو نے اس دیوانی پر 


ثمینہ سید

No comments:

Post a Comment