اس سے بھی اپنی دھوپ ہٹائے بنے نہیں
ہم سے بھی اپنی چھاؤں بنائے بنے نہیں
اس رات سے بچائیو یارب کہ جب دِیا
روشن کیا نہ جائے، بجھائے بنے نہیں
ایسا نہ دور آئے کسی خستہ حال پر
جب اپنے سر کا بار اٹھائے بنے نہیں
دشوار خود کو کر دیا اتنا تِرے لیے
اب تجھ سے میرا ساتھ نبھائے بنے نہیں
آرائشِ جمال کے شائق ہو تم تو کیوں؟
زُلفیں بکھیرے سامنے آئے بنے نہیں
ہم تو اتار لائے ہیں خورشید صحن میں
لیکن نہ تھے نصیب میں سائے بنے نہیں
ش زاد
شین زاد
No comments:
Post a Comment