Sunday, 18 April 2021

اس سے بھی اپنی دھوپ ہٹائے بنے نہیں

 اس سے بھی اپنی دھوپ ہٹائے بنے نہیں

ہم سے بھی اپنی چھاؤں بنائے بنے نہیں

اس رات سے بچائیو یارب کہ جب دِیا

روشن کیا نہ جائے، بجھائے بنے نہیں

ایسا نہ دور آئے کسی خستہ حال پر

جب اپنے سر کا بار اٹھائے بنے نہیں

دشوار خود کو کر دیا اتنا تِرے لیے

اب تجھ سے میرا ساتھ نبھائے بنے نہیں

آرائشِ جمال کے شائق ہو تم تو کیوں؟

زُلفیں بکھیرے سامنے آئے بنے نہیں

ہم تو اتار لائے ہیں خورشید صحن میں

لیکن نہ تھے نصیب میں سائے بنے نہیں


ش زاد

شین زاد

No comments:

Post a Comment