Sunday, 18 April 2021

سر مقتل ادھر وہ کھینچ کر تیغ جفا نکلے

سر مقتل اُدھر وہ کھینچ کر تیغِ جفا نِکلے

اِدھر سر اپنے ہاتھوں پر لیے اہلِ وفا نکلے

لگا اک ہاتھ ایسا خنجرِ بے داد کا اپنے

مِری حسرت بھی اے قاتل! تِرا بھی مُدّعا نکلے

مِری جاں بازیوں کا امتحاں ہو جائے مقتل میں

کِھنچے تیغِ ستم اُن کی، تو دل کا حوصلہ نکلے

رہِ اُلفت میں ہے آہِ دلِ مُضطر سہارے کو

یہ زور ناتوانی ہے کہ لے کر ہم عصا نکلے

بھری محفل میں ظالم کو ہُوئی شرمندگی حاصل

لہو میں تر جو دِیوانے صفِ محشر میں آ نکلے

کھڑے ہیں اس لیے خاموش پیشِ داورِ محشر

نہ جانے کیا کہیں ہم اور اپنے منہ سے کیا نکلے

تحمّل کے سبب رونق ہوئی اس بزم کی شعلہ

وہی اس ڈُوبتی کشتی کے گویا نا خدا نکلے


شعلہ کراروی

سید مومن حسین 

No comments:

Post a Comment