Sunday, 18 April 2021

ہوا میں تیر رہے ہیں سحاب مٹی کے

 ہوا میں تیر رہے ہیں سحاب مٹی کے

زمیں پہ آئیں گے اک دن عذاب مٹی کے

مجھے تو اس سے کئی آدمی بنانے تھے

پرند بھی نہ بنے دستیاب مٹی کے

فلک سے نور کی صورت سوال اترے تھے

دئیے زمین نے لیکن جواب مٹی کے

یہ کس جہان میں مجھ کو گمان لے آیا

ابھر رہے ہیں یہاں آفتاب مٹی کے

پھر ایک روز اسے چاک پر اتارا گیا

پھر اس کے بعد ہوئے دن خراب مٹی کے

کیے گئے تھے ہزاروں ہی تجربات مگر

بدن رہے ہیں فقط کامیاب مٹی کے

یہ اس کے نقش کف پا ہیں اور لگتے ہیں

زمیں پہ جیسے کھلے ہوں گلاب مٹی کے

کسی کے واسطے ساحر چراغ تھے لیکن

ہوا کے ہاتھ پہ رکھے تھے خواب مٹی کے


جہانزیب ساحر

No comments:

Post a Comment