نا اہل اور نکمے سوا اس کے کیا کریں
بیٹھے ہر ایک شخص پہ بس تبصرہ کریں
اچھا ہے آپ اپنی ہمیشہ کہا کریں
لیکن کبھی کبھار مِری بھی سنا کریں
حق بات منہ پہ کہنے کی عادت ہے کیا کریں
کم ظرف ہم سے سوچ سمجھ کر ملا کریں
منصف وہی، گواہ وہی، مدعی وہی
ان کو ہی اختیار ہے جو فیصلہ کریں
محسن ہو چارہ گر ہو مسیحا ہو کیا ہو تم
ہم تم سے اپنے درد کا کیوں تذکرہ کریں
کافی ہے اپنے واسطے بس اک خدا کی ذات
ہر در پہ جا کے کس لیے ہم التجا کریں
بزدل کی طرح کس لیے بیٹھے ہیں گھات میں
ہمت اگر ہے آپ میں تو سامنا کریں
کیا ایک ہم ہی ٹھہرے محبت کے پاسدار
کیا ایک ہم ہی سارے جہاں سے وفا کریں
شعروں میں دھیرے دھیرے ضرور آئے گا نکھار
استاد شاعروں کو اے تابش! پڑھا کریں
تابش ریحان
No comments:
Post a Comment