Monday, 12 April 2021

غم تو تھا پھر بھی بے شمار نہ تھا

 غم تو تھا پھر بھی بے شمار نہ تھا

نیزہ سینے کے آر پار نہ تھا

میرے گرنے پہ کیوں ہے استعجاب

میں تو ویسے بھی شہسوار نہ تھا

وہ جو پھرتا تھا لے کے شیر کی کھال

اس کا مارا ہوا شکار نہ تھا

کیسے رشتے ہیں اس کی موت کے بعد

خون خود اس کا سوگوار نہ تھا

ہم بھی سیراب ہو چکے ہوتے

مطلعِ بخت ابر بار نہ تھا

سخت جانی رہی بہانہ ہے

تیرا خنجر ہی آبدار نہ تھا

میں لدا تھا چلا وہ چل نہ سکا

اس پہ حالانکہ کوئی ہار نہ تھا


اشفاق رہبر

No comments:

Post a Comment