پانی پانی کا مِرا شور ذرا سا کم ہے
اور یہ لوگ سمجھتے ہیں یہ پیاسا کم ہے
تم نے مٹی کے عوض بھی مجھے مہنگا بیچا
کہ مِرا مول تو اس شے سے بھی خاصا کم ہے
میں تو بادل کو ہی پانی کا غنی سمجھا تھا
آنکھ برسی تو کھلا اُس کا اثاثہ کم ہے
میں نے رکھا ہے ابھی دل کے ترازو پہ اسے
آپ کے درد کی نسبت یہ دلاسہ کم ہے
کچھ نہ کچھ درد کی رہتی ہے ملاوٹ مجھ میں
کہ کبھی بڑھ گیا ماسہ، کبھی ماسہ کم ہے
وقت نے جو تِرے ہاتھوں میں دیا ہے عزمی
تیری اوقات زیادہ ہے، یہ کاسہ کم ہے
عزم الحسنین عزمی
No comments:
Post a Comment