عشقِ من تذلیل تک پہنچائیے
پایۂ تکمیل تک پہنچائیے
فیل والے کی نِگہ کعبہ پہ ہے
کنکری ابابیل تک پہنچائیے
پانیوں کی زندگی خطرے میں ہے
مچھلیوں کو جھیل تک پہنچائیے
چشمِ نَم میں کجلگی فرمائیے
طُور کو اک نِیل تک پہنچائیے
کوچۂ جاناں کے ہر اک سنگ کو
عین سنگِ میل تک پہنچائیے
عین عمر
No comments:
Post a Comment