Wednesday, 7 July 2021

یوں قید ہم ہوئے کہ ہوا کو ترس گئے

 یوں قید ہم ہوئے کہ ہوا کو ترس گئے

اپنے ہی کان اپنی صدا کو ترس گئے

تھے کیا عجیب لوگ کہ جینے کے شوق میں

آبِ حیات پی کے ہوا کو ترس گئے

کچھ روز کے لیے جو کیا ہم نے ترک شہر

باشندگانِ شہر جفا کو ترس گئے

مُردہ ادب کو دی ہے نئی زندگی مگر

بیمار خود پڑے تو دوا کو ترس گئے

خالی جو اپنا جسم لہو سے ہوا قمر

کتنے ہی ہاتھ رنگِ حنا کو ترس گئے


قمر اقبال

No comments:

Post a Comment