تھیوری
اس نے مجھے کبھی چھو کر نہیں دیکھا
اور وہ میرے ان بچوں کا باپ ہے
جنہیں میں نے جنم نہیں دیا
میں اس کے ہاتھ کے لمس سے واقف ہوں
اس سانپ کے پیروں کے نشانوں سے
میرے بدن کے آنگن کی مٹی کا ہر ذرہ واقف ہے
میں واقف ہوں
صرف اس کی آنکھوں سے
جنہیں میں نے کبھی بند حالت میں نہیں دیکھا
جو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں کروڑوں سوالات پوچھتی ہیں
جن میں سے ایک کا جواب بھی میرے پاس نہیں ہوتا
وہ مجھ سے صرف ایک خواب کی دوری پر رہتا ہے
ان برف کے پہاڑوں کے پار
جو کسی موسم میں نہیں پگھلتے
میں کئی بار اس بات پر جھگڑا کر چکی ہوں
کہ وہ اتنی دور کیوں رہتا ہے
حالانکہ اسے ہمارے شہر کا موسم پسند ہے
اسے پسند ہیں میرے گھر کے ارد گرد کھیت
جن میں ہم چھپ کر ملنے کی ترکیب بناتے ہیں
وہ دن رات سفر میں ہونے کے باوجود
دس گھنٹے کی مسافت کو دس سال میں بھی طے نہیں کر سکا
حالانکہ ہمارے جسموں کے سوا
ہماری راہ میں کوئی چیز حائل نہیں
میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی
کہ میں اس سے ملنا نہیں چاہتی
یا ہم مل نہیں سکتے
میں نے کئی بار سرد راتوں میں
برف کے پہاڑوں پر سفر کیا ہے
مگر یہ فاصلہ ایک رات کی مسافت سے زیادہ ہے
اور دن میں میرے لیے گھر سے نکلنا ناممکن ہے
ہم نے کئی بار کھتیوں میں چھپنے کی کوشش کی ہے
مگر ہمارے قد فصل سے بڑے ہیں
اور ان میں چھپنا ممکن نہیں ہے
اگر کوئی شخص سوچتا ہے کہ
یہ دنیا بہت بڑی ہے
تو اسے چاہیے کہ محبت کر کے دیکھے
اس کا اصل حدود اربعہ سامنے آ جائے گا
اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے
کہ ہماری عمریں بہت کم ہیں
تو اسے سال کی سب سے چھوٹی رات
اپنے محبوب کے انتظار میں گزار کر دیکھنی چاہیے
خوش بخت بانو
No comments:
Post a Comment