Tuesday, 2 November 2021

اس محبت کو کیسی سزا دی گئی

 اس محبت کو کیسی سزا دی گئی

ہجر آیا تو یکسر بھلا دی گئی

کوئی آیا نہیں پوچھنے حال بھی

رات بھر سسکیوں کی صدا دی گئی

جسم سارا ہی شل تھا جدائی کی شب

درد کی مجھ کو ایسی دوا دی گئی

آخری فیصلہ موت کے حق میں تھا

زندگی زہر دے کر مٹا دی گئی

رقص کرنے لگے ہجر کے مارے سب

وصل کی جو خبر تھی، سنا دی گئی

میں تو رہتا ہوں اتنا ہی حیرت زدہ

جب سے تصویر تیری ہٹا دی گئی

میں نے چاہا تھا اس کو بتانا مگر

بات میری ہنسی میں اُڑا دی گئی


ايہاب شريف

No comments:

Post a Comment