اس محبت کو کیسی سزا دی گئی
ہجر آیا تو یکسر بھلا دی گئی
کوئی آیا نہیں پوچھنے حال بھی
رات بھر سسکیوں کی صدا دی گئی
جسم سارا ہی شل تھا جدائی کی شب
درد کی مجھ کو ایسی دوا دی گئی
آخری فیصلہ موت کے حق میں تھا
زندگی زہر دے کر مٹا دی گئی
رقص کرنے لگے ہجر کے مارے سب
وصل کی جو خبر تھی، سنا دی گئی
میں تو رہتا ہوں اتنا ہی حیرت زدہ
جب سے تصویر تیری ہٹا دی گئی
میں نے چاہا تھا اس کو بتانا مگر
بات میری ہنسی میں اُڑا دی گئی
ايہاب شريف
No comments:
Post a Comment