عارفانہ کلام نعتیہ کلام
فکرِ شاعر کب ہے پابند زمانہ و زمیں
پل میں جا پہنچے کہیں اس سے یہ ناممکن نہیں
جام اک مجھ کو پلا دے آج ساقی پھر یہیں
جس میں شامل ہو ولائے رحمت اللعالمیںﷺ
ہو زباں اپنی رواں پی کے محبت کی شراب
راہِ مدحت میں فقط اس کے جو ہے دنیائے دیں
با وضو ہو کر کریں نظریں یہ گنبد کا طواف
در پہ محبوبؐ خدا کے خود ہی جھک جائے جبیں
کر سکے کوئی نہ دعوائے رسالت تا ابد
زیب سر کرتا ہے مالک تاج ختم المُرسلیں
برق کے مانند پہنچے اور واپس آ گئے
سیر کی افلاک کی واں مدتوں رہ کر مکیں
فلسفی گو ہے تِرے حدِ تخیل سے پرے
پر دلائل کی عقیدوں میں تو گنجائش نہیں
آخرت تک دینِ حق کے ہیں امانت دار آپؐ
کافروں میں بھی لقب تھا آپ کا یوں ہی امیں
اب زباں عاجز ہوئی کہ ہیں محاسن بے شمار
جس قدر تارے زمین پر ریگ بر روئے زمیں
ہو مسلماں تا ابد اپنے عمل سے سرخرو
ہے رضیہ کی دعا تجھ سے یہ رب العالمیں
ہر مسلماں پیروئ سنتِ نبویﷺ کرے
تا قیامت جس میں کچھ رد و بدل ممکن نہیں
رضیہ کاظمی
No comments:
Post a Comment