Wednesday, 3 November 2021

تمام عمر اسے مجھ سے اختلاف رہا

 تمام عمر اسے مجھ سے اختلاف رہا

رہا وہ گھر میں مِرے پر مِرے خلاف رہا

خبر نہِیں کہ تِرے من میں چل رہا ہے کیا

تِری طرف سے مِرا دل ہمیشہ صاف رہا

بجا کہ رتبہ کوئی عین قاف لام کا ہے

بلند سب سے مگر عین شین قاف رہا

مجھے گُماں کہ کوئی مجھ میں نقص بھی ہو گا

رہا نقاب میں چہرہ، تہِ غلاف رہا

کبھی تھا بِیچ میں پریوں کے، اب جِنوں کے بِیچ

یہ شہر میرے لیے گویا کوہ قاف رہا

وہ شخص جس کو سکوں میرے بِن نہ آتا کہِیں

نہِیں تھا میرا، نیا ایک انکشاف رہا

خدا کرے کہ وفا کا بھرم رہے قائم

معاملہ تھا بڑا صاف اور صاف رہا

میں اپنے فن کا پجاری ہوں دوسروں کا نہِیں

بڑا ہے وہ کہ جسے سب کا اعتراف رہا

رشید کوسا کِیا میں یہاں مقدر کو

وہاں چھپا ہوا سینے میں اک شگاف رہا


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment