Tuesday, 23 November 2021

جلوہ تھا اس کا پیش نظر دیکھتی رہی

 جلوہ تھا اس کا پیشِ نظر دیکھتی رہی

تھا دیکھنا محال، مگر دیکھتی رہی

منزل پہ اپنی جا بھی چکے اہلِ کارواں

میں بے بسی سے گردِ سفر دیکھتی رہی

اس پر پڑی نگہ تو محسوس یہ ہوا

جل جائے گی نگہ اگر دیکھتی رہی

دریا پہ لا کے اپنے سفینے جلا دئیے

چشمِ شکست میرا ہُنر دیکھتی رہی


شیاما سنگھ صبا

No comments:

Post a Comment