اے مِری جان! تجھے اور بدلنا ہو گا
پھر مِرے ساتھ کڑی دھوپ میں چلنا ہو گا
اپنے پیروں پہ ابھی قرضِ سفر باقی ہے
حدِ امکان سے آگے بھی نکلنا ہو گا
اس سے پہلے کہ ڈھلے رات نیا دن نکلے
تِرے خوابوں کو مِرے خواب میں ڈھلنا ہو گا
انقلابات کا آغاز بھی ہو گا، لیکن
لے کے پرچم سرِ بازار نکلنا ہو گا
کامیابی کا یقیں دور نہ کر دے ہم کو
پاس منزل کے ذرا اور سنبھلنا ہو گا
وادیوں میں تو کسی خواب کی بھٹکے ہے فروغ
تجھ کو تعبیر کے صحرا میں بھی جلنا ہو گا
فروغ زیدی
No comments:
Post a Comment