میں ہزارہ ہوں
ہزاروں بار پیدا ہو کے بھی مرتا نہیں ہوں
ہزاروں بار دفنایا گیا مجھ کو
سماتا ہی نہیں ہوں قبر میں اپنی
سو قبرستان سے باہر نکلنے لگ پڑا ہوں
مجھے مارا گیا
غزنی کے ہمسائے میں بھی، لیکن
میں انسانوں میں وہ خلیہ ہوں
جس کو کاٹنے سے
میری پھیلاوٹ حدوں کو توڑتی ہے
صنوبر سے بھرے اس شہر میں
اپنی صنوبر کی طرح لچکیلی شاخیں
ساتھ لے کر جب سے آیا ہوں
صنوبر کاٹنے کا حکم جاری ہو گیا ہے
مِری وہ شاخ جو تھوڑا زیادہ لہلہاتی ہے
اسے حد ہے
کہ اس کو کاٹنا ہے
اے مِرے مالی
ذرا تو سوچ کیا حد ہے
مِرے مالی یہ بے حد ہے
میں اکا دُکا قبروں میں مکمل ہوں، وگرنہ
ہاں، کفن پورے میں دفنایا گیا ہوں
یہ مسلک اور کاروبار تو چلتا ہے صدیوں سے
مگر چھ ماہ کا بچہ بھلا ہوتا ہے شیعہ؟
خُدا تم کو مبارک ہو
ہمیں کافر ہی رہنے دو
سعید سادھو
سعید قریشی
بہت اچھا لگا اپنی نظم آپ کی پسند میں دیکھ کر
ReplyDeleteمحترمی سعید بھائی آپ کو اپنے بلاگ پر خوش آمدید کہتا ہوں، ان شاء اللہ گاہے بگاہے مزید کلام بھی شئیر کیا جا سکتا ہے، اگر آپ مزید کچھ غزلین اور نظمیں بھجوا سکیں تو تہِ دل سے مشکور ہوں گا، شکریہ۔
Delete