Sunday, 2 January 2022

ہمیں کافر ہی رہنے دو

 میں ہزارہ ہوں


ہزاروں بار پیدا ہو کے بھی مرتا نہیں ہوں

ہزاروں بار دفنایا گیا مجھ کو

سماتا ہی نہیں ہوں قبر میں اپنی

سو قبرستان سے باہر نکلنے لگ پڑا ہوں

مجھے مارا گیا

غزنی کے ہمسائے میں بھی، لیکن 

میں انسانوں میں وہ خلیہ ہوں 

جس کو کاٹنے سے 

میری پھیلاوٹ حدوں کو توڑتی ہے

صنوبر سے بھرے اس شہر میں 

اپنی صنوبر کی طرح لچکیلی شاخیں

ساتھ لے کر جب سے آیا ہوں

صنوبر کاٹنے کا حکم جاری ہو گیا ہے

مِری وہ شاخ جو تھوڑا زیادہ لہلہاتی ہے 

اسے حد ہے

کہ اس کو کاٹنا ہے

اے مِرے مالی

ذرا تو سوچ کیا حد ہے

مِرے مالی یہ بے حد ہے

میں اکا دُکا قبروں میں مکمل ہوں، وگرنہ

ہاں، کفن پورے میں دفنایا گیا ہوں

یہ مسلک اور کاروبار تو چلتا ہے صدیوں سے

مگر چھ ماہ کا بچہ بھلا ہوتا ہے شیعہ؟

خُدا تم کو مبارک ہو 

ہمیں کافر ہی رہنے دو


سعید سادھو

سعید قریشی

2 comments:

  1. بہت اچھا لگا اپنی نظم آپ کی پسند میں دیکھ کر

    ReplyDelete
    Replies
    1. محترمی سعید بھائی آپ کو اپنے بلاگ پر خوش آمدید کہتا ہوں، ان شاء اللہ گاہے بگاہے مزید کلام بھی شئیر کیا جا سکتا ہے، اگر آپ مزید کچھ غزلین اور نظمیں بھجوا سکیں تو تہِ دل سے مشکور ہوں گا، شکریہ۔

      Delete