Monday, 3 January 2022

کبھی تو کفر کی اس انتہا کا خوف کرو

 کبھی تو کفر کی اس انتہا کا خوف کرو

خدا نہیں ہے تو پھر بھی خدا کا خوف کرو

ہمیں خدا سے ڈراتے ہو خود نہیں ڈرتے

خدا کو ماننے والو خدا کا خوف کرو

یہ خلق مُہر بلب چیخ اٹھی تو کیا ہو گا

گلے پڑے گی خموشی صدا کا خوف کرو

فلک ستارے سنبھالے ہوئے ہے برسوں سے

زمیں پہ جلتے دِیے ہو، ہوا کا خوف کرو

ابھی تو ہاتھ گریباں تلک ہی پہنچے ہیں

یہ ابتداء ہے تو پھر انتہا کا خوف کرو


صدیق منظر

No comments:

Post a Comment