کبھی تو کفر کی اس انتہا کا خوف کرو
خدا نہیں ہے تو پھر بھی خدا کا خوف کرو
ہمیں خدا سے ڈراتے ہو خود نہیں ڈرتے
خدا کو ماننے والو خدا کا خوف کرو
یہ خلق مُہر بلب چیخ اٹھی تو کیا ہو گا
گلے پڑے گی خموشی صدا کا خوف کرو
فلک ستارے سنبھالے ہوئے ہے برسوں سے
زمیں پہ جلتے دِیے ہو، ہوا کا خوف کرو
ابھی تو ہاتھ گریباں تلک ہی پہنچے ہیں
یہ ابتداء ہے تو پھر انتہا کا خوف کرو
صدیق منظر
No comments:
Post a Comment