Monday, 3 January 2022

مجھے تلاش تھی جس کی وہی کبھی نہ ملی

 مجھے تلاش تھی جس کی وہی کبھی نہ مِلی

ہر ایک چیز،۔ مِلی ایک زندگی نہ مِلی

تِری تلاش میں پیروں میں پڑ گئے چھالے

مگر یہ منزلِ مقصود تو کبھی نہ مِلی

خوشی سے دوستی میری بھی ہے مگر اک دن

خفا ہوئی وہ کچھ ایسے کی پھر کبھی نہ ملی

وہ جس چراغ کے دم سے مکان روشن تھا

اسی چراغ کو خود اپنی روشنی نہ ملی

تمہارے ہجر میں ایسا بھی وقت گزرا ہے

بدن ٹٹول کے دیکھا تو نبض ہی نہ ملی

یہ جسم ہے کہ فقط شور غُل ہے سانسوں کا

یہ آنکھ ہے کہ کوئی خواب دیکھتی نہ ملی

دل و دماغ پہ حاوی رہا غمِ دوراں

خوشی کے ساتھ بھی رہ کر مجھے خوشی نہ ملی

مجھے نہ مِل سکا سورج مِرے مقدر کا

ترا نصیب تجھے میری چاندنی نہ ملی


چاندنی پانڈے

No comments:

Post a Comment